محبوب کے ٹھکراے کا فسانہ

محبوب کے ٹھکراے کا فسانہ

غم عشق بری بلا ہے
اور کیا کہوں کہ شباب کیا ہے؟

صحرا میں خاک چھانتے عمر گزری
کیا کبھی ایسے بھی کوئی جیا ہے؟

اس کی صورت پہ ہم مر مٹے 
خدایا کیا حسن تم نے اسے دیا ہے۔

ہم نظروں سے نظریں ملا بیٹھے تب
وہ بولے٫ کیا تو اس بستی میں نیا ہے؟

اس کے شہر سے آج نکال دیے گے ہم
ربا کیا یہی رسم دنیا ہے؟

مے پی لیجئے، مے پلا دیجئے عمر
زندگی میں ایک ہی کام تو ہم نے کیا ہے

Umer Majeed is a computer scientist. However, he likes to write astonish poetry and craft creative articles in his free time. He loves to indulge in thoughts and contemplate upon the meaning of life.

www.000webhost.com