ساگر اور جام

ساگر اور جام

اشکوں سے میں نے ساگر بھر دیا شراب سے جام
وہی زیست کی ویرانی ہے وہی بیزار سی شام

انکے کوچے سے اب مت آٹھیو
کبھی تو وہ لیں گے میرا نام

جھلک دیکھنے تیری عدم سے بھیجا گیا مجھے
اس جہان خراب میں میرا اور ہے کیا کام؟

شب کمخواب ، جزبات عطشِ شدید اور تمنا بےتاب
کس ناز سے بھیجیں اب تجھے یہ پیغام

Umer Majeed is a computer scientist. However, he likes to write astonish poetry and craft creative articles in his free time. He loves to indulge in thoughts and contemplate upon the meaning of life.

www.000webhost.com