زمانہ ، شباب اور آوارگی

زمانہ ، شباب اور آوارگی

اک عمر کی بے قراریوں کا حاصل بس سراب ہے
میری بے تابیوں کا تماشا بھی تو جاناں لاجواب ہے

تم کو سوچتے تھے تم کو چاہتے تھے
اب تو تمہارے ساتھ کی چاہت بھی اک خواب ہے

ہائے یہ تشنگی، یہ ویرانی، یہ سناٹا اور یہ تنہائی
جاناں مجھے بتلاؤ کہ یہ کیسا شباب ہے؟

دشت دشت شہر شہر گھوم رہا ہوں میں
میری آوارگی کا بھی کیا کوئی حساب ہے؟

یوں مدہوش نہ گھر سے نکلا کیجیے
لوگ کہتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے

چلیۓ اب تو پردہ گرا دیجئے
درمیان اب کیوں حایل یہ حجاب ہے؟

عمر چیر ڈالیے سینا اور دل وا کیجیے
کہ آج محبت کا احتساب ہے

Umer Majeed is a computer scientist. However, he likes to write astonish poetry and craft creative articles in his free time. He loves to indulge in thoughts and contemplate upon the meaning of life.

www.000webhost.com