آفتاب کی کرن

آفتاب کی کرن

آفتاب ھے، آفتاب کی کرن ہے، شجر ہے اور آبشار بھی
بس اک تم نہیں زیست میں کہ بیتاب ھیں میرے خواب وخیال بھی
تیرے ساتھ کی چاہت ھے کہ پیاسے ھیں میرے لب اضطراب بھی
ان دھڑکنوں کو تم سمجھو کہ ان میں ھے اک آہوزار بھی
یہ تیری چاہت ھے یا قدرت کے اصول
کہ پاگل دیوانہ میں تیرا ہاں آج بھی آج بھی
نہ اس عشق کو جھٹلاؤ کہ میرا عشق ہے نایاب
کہ اک خلقت ترس رہی ہے پیار کو آج بھی آج بھی

Umer Majeed is a computer scientist. However, he likes to write astonish poetry and craft creative articles in his free time. He loves to indulge in thoughts and contemplate upon the meaning of life.

www.000webhost.com